ابتداّ خداۓ بزرگ و برتر کے نام سے اور ہزار بار درود نبی اکرم کی ذات پہ!محترم پرنسپل، قابل احترام اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیوں!اسلام علیکم!آج اس ایوان میں جو موضوع زیر بحث وہ ھے نظم و ضبط کی اہمیت۔۔ یہ میرے لۓ خوش قسمتی اور اعزاز کی بات ھے۔ کہ میں اپنے ہاؤس یعنی سرسیّد ہاؤس کی طرف سے اس عنوان پر لب کشائ کی جسارت کرہاھوں۔عالی مرتبت!اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مشاھدہ کریں تو ہمیں قدرت کے مناظر اور مظاہر میں نظم و ضببط نظر آتا ھے۔ سورج روزانہ مشرق سے نکلتا ہے۔ اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ پانی ہمیشہ اونچائ سے اترائ کی بہتا ہے۔ رات ہمیشہ دن کے بعد آتی ہے۔ موسموں کا تغیّر و تبدل ایک خاص ترتیب سے وقوع پذیر ھوتا ھے۔ ایسے کئ مظاہر قدرت ہیں جو روزآوّل تا آخر ایک نظم، ایک قائدے اور ایک قانون کے تحت جاری رہینگے۔اگر انکی ترتیب ذرا سی بدل گئ تو کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہوجائگا۔ دریا کا پانی کناروں کا ضبط توڑ کر باہر آۓ تو سیلاب بن جاتا ہے۔ سورج مشرق کی بجاۓ مغرب نکل آۓ تو قیامت برپا ھوجاۓ۔ بقول شاعر
ایک ہوجاؤ تو فولاد کی طاقت ھو تم
ساری دنیا کیلۓ شمع ہدایت ھو تم





